(ض) وَسَطَ يَسِطُ وَسْطًا (اصلی: وَسَطَ يَوْسِطُ): کسی چیز کے درمیان میں ہونا، بیچ میں جا گھسنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا﴾ (العٰدیٰت ۱۰۰:۵)
وَسَطٌ (بفتحتین، اسمِ ذات/صفت): درمیان (اردو میں «وسط، وسطی» اسی معنی میں)؛ اسی سے «معتدل اور بہترین» کا مفہوم، کیونکہ افراط و تفریط دونوں کناروں پر ہوتے ہیں اور خیر درمیان میں۔ ﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۴۳)
اَوْسَطُ (اسم التفضیل): درمیانی (اردو میں «اوسط»: اعداد کی اوسط، ایوریج؛ عربی میں: درمیانی؛ سب سے معتدل)؛ بہترین، سب سے معتدل۔ ﴿مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ﴾ (المائدۃ ۵:۸۹)؛ ﴿قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ﴾ (القلم ۶۸:۲۸)
وُسْطٰى (فُعْلٰى کے وزن پر، اَوْسَط کا مؤنث): درمیانی؛ بہترین۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۸)
(تفعّل) تَوَسَّطَ يَتَوَسَّطُ تَوَسُّطًا: درمیان میں ہونا؛ دو فریقوں کے بیچ پڑ کر واسطہ بننا (اردو میں «توسط، متوسط» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: واسطہ، متوسط۔