(ض) وَزَنَ يَزِنُ وَزْنًا وَزِنَةً (اصلی: وَزَنَ يَوْزِنُ): (۱) تولنا (۲) تول کر دینا؛ زِنْ (فعلِ امر): تو تول۔ ﴿وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ﴾ (الاسراء ۱۷:۳۵)؛ ﴿وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ﴾ (المطففین ۸۳:۳)
وَزْنٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): تول (اردو میں «وزن، وزنی» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ﴾ (الاعراف ۷:۸)
مَوْزُوْنٌ (اسم المفعول): تولا ہوا، (ٹھیک ٹھیک) اندازے کے مطابق (اردو میں «موزوں»: مناسب، موقع کے لائق؛ عربی میں: تولا ہوا، ٹھیک اندازے کا)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ﴾ (الحجر ۱۵:۱۹)
مِيْزَانٌ ج مَوَازِيْنُ (اصلاً مِوْزَانٌ، اسم الآلہ): وزن کرنے کا آلہ، ترازو (اردو میں «میزان»: کل رقم، مجموعہ؛ ترازو؛ عربی میں: ترازو، تولنے کا آلہ)۔ ﴿وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۷)؛ ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ﴾ (الانبیاء ۲۱:۴۷)
(مفاعلہ) وَازَنَ يُوَازِنُ مُوَازَنَةً: دو چیزوں کو ایک دوسرے کے مقابل تولنا، باہم مقابلہ کرنا (اردو میں «موازنہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفاعل) تَوَازَنَ يَتَوَازَنُ تَوَازُنًا: (دو چیزوں کا) وزن میں برابر ہونا، باہم برابر رہنا (اردو میں «توازن، متوازن» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: توازن، متوازن۔
«دنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان» (ضربِ کلیم)