(س) وَسِعَ يَسَعُ سَعَةً (اصلی: وَسِعَ يَوْسَعُ): کشادہ ہونا؛ (متعدی) کسی چیز کو اپنے اندر سمو لینا، احاطہ کر لینا۔ ﴿وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۵)؛ ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا﴾ (المؤمن ۴۰:۷)
سَعَةٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): کشادگی، فراخی۔ ﴿لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهِۦ﴾ (الطلاق ۶۵:۷)
وُسْعٌ (اسمِ ذات): وسعت، استطاعت، اہلیت (اردو میں «وسعت» اسی معنی میں)۔ ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرۃ ۲:۲۸۶)
وَاسِعٌ، مؤنث وَاسِعَةٌ (اسم الفاعل، زیادہ تر صفت کے طور پر): کشادگی والا، وسیع۔ ﴿وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ﴾ (البقرۃ ۲:۲۶۱) (اردو میں «وسیع» اسی معنی میں)؛ ﴿وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ﴾ (الزمر ۳۹:۱۰)
(تفعیل) وَسَّعَ يُوَسِّعُ تَوْسِيْعًا: کشادہ کرنا، پھیلانا، بڑھانا (اردو میں «توسیع» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افعال) اَوْسَعَ يُوْسِعُ اِيْسَاعًا: رزق میں کشادگی والا ہونا؛ کسی چیز کو کشادہ کرنا؛ مُوْسِعٌ (اسم الفاعل): کشادہ حال، وسعت دینے والا۔ ﴿وَالسَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ﴾ (الذّٰریٰت ۵۱:۴۷)؛ ﴿عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهُۥ﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۶)
اردو میں اس مادے سے: توسیع۔