Rizwan Zubair

مادّہ و س م

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

و س مw-s-m

(ض) وَسَمَ يَسِمُ وَسْمًا وَسِمَةً (اصلی: وَسَمَ يَوْسِمُ): کسی چیز پر نشان لگانا، داغ دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿سَنَسِمُهُۥ عَلَي الْخُرْطُوْمِ﴾ (القلم ۶۸:۱۶)

(تفعّل) تَوَسَّمَ يَتَوَسَّمُ تَوَسُّمًا: نشان اور علامات دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرنا، فراست سے کام لینا؛ مُتَوَسِّمٌ ج مُتَوَسِّمُوْنَ (اسم الفاعل): صاحبِ فراست۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۷۵)

نوٹ: ﴿وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۴) کا «مُسَوَّمَة» مادہ س و م سے ہے۔

اردو میں اس مادے سے: موسم (رُت، آب و ہوا؛ عربی میں: میلے یا حج کا مقررہ وقت)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ