و س لw-s-l
(ض) وَسَلَ يَسِلُ وَسْلًا وَوَسِيْلَةً: رغبت کے ساتھ کسی کی طرف پہنچنا، (اللہ کا) تقرب حاصل کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَسِيْلَةٌ ج وَسَآئِلُ (اسمِ ذات): وہ ذریعہ جس سے کسی تک رسائی حاصل کی جائے، قربت کا سبب (اردو میں «وسیلہ، وسائل»: ذریعہ، سبب، سہارا؛ عربی میں: قربت اور رسائی کا ذریعہ)؛ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ وسیلہ میں رغبت اور طلب کا مفہوم شامل ہے، اسی لیے یہ محض «سبب» سے خاص ہے۔ قرآن میں دو بار، اور دونوں جگہ قربت کے معنی میں: ﴿وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ﴾ (المائدۃ ۵:۳۵)؛ ﴿يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ﴾ (الاسراء ۱۷:۵۷)