(ض) وَرَدَ يَرِدُ وُرُوْدًا (اصلی: وَرَدَ يَوْرِدُ): پانی (کے گھاٹ) تک پہنچنا یا آنا (اردو میں «ورود» اسی معنی میں)؛ پھر کسی بھی جگہ تک پہنچنے کے لیے۔ ﴿وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ﴾ (القصص ۲۸:۲۳)
وَارِدٌ (اسم الفاعل): (۱) پہنچنے والا (۲) (قافلے کے لیے) پانی لانے والا، سقہ (اردو میں «وارد» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا﴾ (مریم ۱۹:۷۱)؛ ﴿فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهُۥ﴾ (یوسف ۱۲:۱۹)
وِرْدٌ (اسمِ ذات): (۱) پانی تک پہنچنے کی جگہ، گھاٹ (۲) پیاسے (جو گھاٹ پر آتے ہیں) (اردو میں «ورد»: بار بار پڑھنا، تسبیح؛ عربی میں: گھاٹ، پانی کا حصہ)؛ مَوْرُوْدٌ (اسم المفعول): جس تک پہنچا جائے۔ ﴿وَنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا﴾ (مریم ۱۹:۸۶)؛ ﴿وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ﴾ (ھود ۱۱:۹۸)
وَرِيْدٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): گردن کی وہ رگ جس سے سارے بدن کو خون پہنچتا ہے (حَبْلُ الْوَرِيْد) (اردو میں «ورید» اسی معنی میں)؛ ذبح کے وقت یہی رگ کاٹی جاتی ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ﴾ (قٓ ۵۰:۱۶)
(ک) وَرُدَ يَوْرُدُ وُرُوْدَةً: زردی مائل سرخ، یعنی گلابی ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔ وَرْدٌ (گلاب کا پھول): (یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَرْدَةٌ (اسمِ ذات): گلابی رنگت؛ گلاب کا پھول۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۳۷)
(افعال) اَوْرَدَ يُوْرِدُ اِيْرَادًا: کسی کو کسی جگہ (گھاٹ پر) پہنچانا۔ ﴿يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ﴾ (ھود ۱۱:۹۸)