Rizwan Zubair

مادّہ و ق ع

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 7 · English

و ق عw-q-ʿ

(ف) وَقَعَ يَقَعُ وُقُوْعًا وَوَقْعَةً (اصلی: وَقَعَ يَوْقَعُ): (۱) گر پڑنا (۲) ہو پڑنا، واقع ہونا (۳) ثابت ہونا، لازم ہونا (اردو میں «وقوع» اسی معنی میں)؛ قَعْ (فعلِ امر): تو گر پڑ۔ ﴿اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۱)؛ ﴿فَقَعُوْا لَهُۥ سٰجِدِيْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۲۹)؛ ﴿وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا﴾ (النمل ۲۷:۸۵)

وَاقِعٌ، مؤنث وَاقِعَةٌ (اسم الفاعل): واقع ہونے والا (اردو میں «واقع، واقعہ» اسی معنی میں)؛ «اَلْوَاقِعَةُ» قیامت کا ایک نام ہے اور اسی سے سورت کا نام ہے۔ ﴿سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ﴾ (المعارج ۷۰:۱)

مَوْقِعٌ ج مَوَاقِعُ (مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف): گرنے کی جگہ (اردو میں «موقع»: مناسب وقت، فرصت، محل؛ عربی میں: گرنے یا ہونے کی جگہ)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۷۵)

(مفاعلہ) وَاقَعَ يُوَاقِعُ مُوَاقَعَةً: کسی چیز میں جا پڑنا؛ مُوَاقِعٌ (اسم الفاعل): جا پڑنے والا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا﴾ (الکھف ۱۸:۵۳)

(افعال) اَوْقَعَ يُوْقِعُ اِيْقَاعًا: گرا دینا، (کسی کو کسی چیز میں) ڈال دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ﴾ (المائدۃ ۵:۹۱)

(تفعّل) تَوَقَّعَ يَتَوَقَّعُ تَوَقُّعًا: کسی بات کے ہونے کی امید اور انتظار رکھنا (اردو میں «توقع، متوقع» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: توقع، متوقع۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ