Rizwan Zubair

مادّہ و ج د

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

و ج دw-j-d

(ض) وَجَدَ يَجِدُ وُجُوْدًا وَوِجْدَانًا (اصلی: وَجَدَ يَوْجِدُ): کسی چیز کو پانا (اردو میں «وجود»: ہستی، موجود ہونا؛ عربی میں: پانا، حاصل کرنا؛ «وجدان»: باطنی شعور، احساس؛ عربی میں: پانا، پا لینا)؛ (کسی حالت میں) پانا۔ ﴿اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى ۝ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى﴾ (الضحٰی ۹۳:۶-۷)؛ ﴿وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (الکھف ۱۸:۴۹)

وُجْدٌ (اسمِ ذات): استطاعت، مالی وسعت۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ﴾ (الطلاق ۶۵:۶)

(افعال) اَوْجَدَ يُوْجِدُ اِيْجَادًا: وجود میں لانا، پیدا کرنا (اردو میں «ایجاد»: نئی چیز بنانا، اختراع؛ «موجد»: ایجاد کرنے والا؛ عربی میں: وجود میں لانا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: موجود؛ ایجاد (نئی چیز بنانا، اختراع؛ عربی میں: وجود میں لانا)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ