و ف ضw-f-ḍ
— أَوْفَضَ يُوْفِضُ إِيْفَاضًا (باب افعال): تیزی سے دوڑنا، لپکنا۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم جلدی اور اضطراب کا ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار، اور وہ قیامت کے دن قبروں سے نکلنے کے منظر میں: ﴿يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ﴾ (المعارج ۷۰:۴۳)۔