(ف) وَدَعَ يَدَعُ وَدْعًا (اصلی: وَدَعَ يَوْدَعُ): (۱) کسی چیز کو چھوڑ دینا (۲) کسی چیز کو امانت کے طور پر رکھنا؛ دَعْ (فعلِ امر): تو چھوڑ دے؛ اس فعل کا ماضی بہت کم مستعمل ہے، زیادہ تر مضارع اور امر آتے ہیں۔ ﴿وَدَعْ اَذٰىهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ﴾ (الاحزاب ۳۳:۴۸)
(تفعیل) وَدَّعَ يُوَدِّعُ تَوْدِيْعًا: رخصت کرنا، چھوڑ دینا، کسی سے لاتعلق ہو جانا (اردو میں «وداع، الوداع» اسی معنی میں)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى﴾ (الضحٰی ۹۳:۳)
(استفعال) اِسْتَوْدَعَ يَسْتَوْدِعُ اِسْتِيْدَاعًا: کسی چیز کو کسی کے پاس امانت کے طور پر رکھنا؛ مُسْتَوْدَعٌ (اسم المفعول بطور ظرف): امانت رکھنے کی جگہ۔ ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْتَوْدَعٌ﴾ (الانعام ۶:۹۸)؛ ﴿وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا﴾ (ھود ۱۱:۶)
اردو میں اس مادے سے: ودیعت۔
«وداعِ غنچہ میں ہے رازِ آفرینشِ گل» (بانگِ درا)
«خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا» (دیوانِ غالب)