Rizwan Zubair

مادّہ ط ی ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 4 · English

ط ی رṭ-y-r

(ض) طَارَ يَطِيْرُ طَيْرًا: کسی چیز کا اڑنا، پھیل جانا۔ ﴿وَلَا طٰٓئِرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ﴾ (الانعام ۶:۳۸)

طَائِرٌ ج طَيْرٌ (اسم الفاعل): اُڑنے والا (اردو میں «طائر، طیور» اسی معنی میں)؛ مختلف مفاہیم میں آتا ہے: (۱) پرندہ (۲) اعمال (کیونکہ عمل کر لینے کے بعد وہ انسان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، یعنی اڑ جاتے ہیں) (۳) بدشگونی، نحوست (عرب لوگ پرندوں سے شگون لیا کرتے تھے، پھر یہ شگون کے بجائے بدشگونی کے لیے استعمال ہونے لگا)۔ ﴿وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهُۥ فِيْ عُنُقِهِۦ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۱۳)

(تفعّل) تَطَيَّرَ يَتَطَيَّرُ تَطَيُّرًا (اور اِطَّيَّرَ): بدشگونی لینا، منحوس سمجھنا۔ ﴿قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ﴾ (النمل ۲۷:۴۷)

(استفعال) اِسْتَطَارَ يَسْتَطِيْرُ اِسْتِطَارَةً: پھیل جانا، منتشر ہونا۔ مُسْتَطِيْرٌ (اسم الفاعل): پھیل جانے والا۔ ﴿يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيْرًا﴾ (الدھر ۷۶:۷)

اردو میں اس مادے سے: طیارہ۔

«طائرِ زیرِ دام کے نالے تو سن چکے ہو تم» (بانگِ درا)

«ٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور» (بالِ جبریل)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ