(ن) طَافَ يَطُوْفُ طَوْفًا وَطَوَافًا (اصل: طَوَفَ): چکر لگانا، گرد گھومنا (اردو میں «طواف» اسی معنی میں)۔ طَائِفَة (اسمِ فاعل مؤنث): گروہ، ٹولی — نام اسی لیے کہ وہ ایک جگہ کے گرد جمع ہوں (اردو میں «طائفہ» اسی معنی میں)۔ طَائِف: چکر لگانے والا، اور وہ آفت جو رات کو گھیر لے۔ طَوَّاف ج طَوَّافُوْن (مبالغہ): بہت آنے جانے والا؛ خادموں کے لیے قرآن نے یہی لفظ استعمال کیا۔ طُوْفَان: وہ سیلاب یا آفت جو ہر طرف گھیر لے (اردو میں «طوفان»: آندھی، شدید ہوا اور بارش؛ عربی میں: سیلاب، ہر طرف گھیرنے والی آفت)۔
(تفعّل) تَطَوَّفَ ⟵ اِطَّوَّفَ (تاء کو طاء میں مدغم): طواف کرنا۔ قرآن میں ۴۱ بار: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ (البقرۃ ۲:۱۵۸) اور ﴿طَوَّافُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ﴾ (النور ۲۴:۵۸)۔
يُطَافُ (مضارع مجہول): چکر دیا جانا، گردش میں لایا جانا۔ طَائِفٌ اپنے بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے: (۱) ذہن میں گردش کرنے والا خیال، وسوسہ (۲) کوئی آفت جو انسان پر گھوم جائے (۳) طواف کرنے والا۔ طَائِفَةٌ کا زیادہ تر استعمال کسی بڑی جماعت کے چھوٹے گروہ کے لیے ہوتا ہے۔ طُوْفَان (فُعْلَان کے وزن پر مبالغہ) زیادہ تر انتہائی تیز ہوا اور بارش کے لیے آتا ہے، سائیکلون (Cyclone)۔