Rizwan Zubair

مادّہ ط غ ی

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 2 · English

ط غ یṭ-gh-y

(ف) طَغَيٰ يَطْغَيٰ طُغْيَانًا وَطَغْوًيٰ: حد سے بڑھ جانا، سرکشی کرنا (اردو میں «طغیان، طغیانی»: سیلاب، پانی کا چڑھاؤ؛ عربی میں: سرکشی، حد سے بڑھ جانا)؛ اصل مفہوم پانی کے کنارے سے ابل پڑنے کا ہے (طَغَي الْمَاءُ)۔ طَاغٍ ج طَاغِيْن، طَاغِيَة (وہ سرکشی جو تباہ کر دے، یا سرکش شخص)، طَاغُوْت (وزن فَعَلُوْت، مبالغہ (اردو میں «طاغوت» اسی معنی میں)؛ ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا اطاعت کی جائے — واحد و جمع دونوں کے لیے آتا ہے)۔

(افعال) أَطْغَيٰ: سرکش بنا دینا۔ قرآن میں ۳۹ بار: ﴿اذْهَبْ إِلٰى فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغٰى﴾ (طٰہٰ ۲۰:۲۴)، ﴿إِنَّا لَمَّا طَغَي الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ﴾ (الحاقۃ ۶۹:۱۱)۔

«نہ ہو طغیانِ مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی» (بالِ جبریل)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ