ط ف فṭ-f-f
(ن) طَفَّ يَطُفُّ طَفًّا (اصلی: طَفَفَ يَطْفُفُ): کسی چیز کے قریب پہنچنا، کنارے تک آنا۔ طَفِيْف: تھوڑا، ناقص۔
(تفعیل) طَفَّفَ يُطَفِّفُ تَطْفِيْفًا: ناپ تول میں کمی کرنا؛ مُطَفِّف ج مُطَفِّفِيْن (اسمِ فاعل) — اور اسی سے سورت کا نام ہے۔ اہلِ لغت کا نکتہ: تطفیف اس لیے کہا گیا کہ چور بہت تھوڑا چراتا ہے، اور یہی اس کی سنگینی ہے کہ معمولی چوری پر یہ وعید آئی۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ﴾ (المطففین ۸۳:۱)۔