ص و مṣ-w-m
(ن) صَامَ يَصُوْمُ صَوْمًا وَصِيَامًا (اصل: صَوَمَ): رک جانا، باز رہنا (اردو میں «صوم، صیام» اسی معنی میں)؛ عربی میں گھوڑے کے چارے سے رک جانے اور سورج کے عینِ دوپہر میں ٹھہر جانے پر بھی بولا جاتا ہے۔ شرعًا: کھانے پینے اور شہوت سے رکنا۔ صَائِم ج صَائِمُوْن وَصَائِمَات (اسمِ فاعل) (اردو میں «صائم» اسی معنی میں)۔ قرآنی نکتہ: سیدہ مریم علیہا السلام کا روزہ گفتگو سے رکنے کا تھا — ﴿إِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا﴾ (مریم ۱۹:۲۶)، جو مادہ کے اصل معنی کی روشن ترین دلیل ہے۔ قرآن میں ۱۴ بار۔