ص ر مṣ-r-m
(ض) صَرَمَ يَصْرِمُ صَرْمًا: کاٹنا، پھل توڑنا؛ نیز تعلق توڑ لینا؛ باب کا تعین قرآنی صیغے «يَصْرِمُ» سے ہوتا ہے۔ ﴿لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِيْنَ﴾ (القلم ۶۸:۱۷)
صَرِيْمٌ: کٹا ہوا؛ اور اسی سے سیاہ رات (کہ اس نے دن سے علیحدگی کر لی) یا جلا ہوا کھیت۔ ﴿فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِ﴾ (القلم ۶۸:۲۰)
صَارِمٌ ج صَارِمُوْنَ (اسم الفاعل): کاٹنے والا، پھل توڑنے والا۔ ﴿اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِيْنَ﴾ (القلم ۶۸:۲۲)
قرآن میں یہ مادہ تین بار آیا ہے، اور تینوں ایک ہی قصے (اصحابِ جنت) میں۔