ص ل ص لṣ-l-ṣ-l
(رباعی) — صَلْصَالٌ: خشک کھنکھناتی مٹی، وہ گارا جو سوکھ کر بجنے لگے؛ اہلِ لغت میں دو قول ہیں: (۱) ص ل ل سے مکرر، بمعنی کھنکھنانے والی مٹی — یہی راجح ہے (۲) صَلَّ اللَّحْمُ سے، یعنی بدبودار مٹی — اور «مِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» کی قید اسی کی تائید میں پیش کی جاتی ہے۔ قرآن میں چار بار: ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۱۴)؛ ﴿مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ (الحجر ۱۵:۲۶)