Rizwan Zubair

مادّہ ص ف و

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 5 · English

ص ف وṣ-f-w

(ن) صَفَا يَصْفُوْ صَفْوًا وَصَفَآءً: کسی چیز کا ہر آمیزش سے پاک ہونا۔

اَلصَّفَا: خانہ کعبہ کے پاس ایک پہاڑی کا نام (اس پہاڑی کا پتھر بالکل صاف ہے)۔ ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۵۸)

افعال اَصْفٰى يُصْفِيْ اِصْفَآءً (اصل: اَصْفَوَ يُصْفِوُ اِصْفَاوًا): کسی کو آمیزش سے پاک کرنا، کسی کو دوسروں سے الگ کر کے کسی چیز یا کام کے لیے مخصوص کرنا۔ ﴿اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۴۰)

تفعیل صَفّٰى يُصَفِّيْ تَصْفِيَةً (اصل: صَفَّوَ يُصَفِّوُ): کسی چیز کو آمیزش سے صاف کرنا (اردو میں «تصفیہ» اسی معنی میں)؛ مُصَفًّي (اسم المفعول، اصل مُصَفَّوٌ): صاف کیا ہوا۔ ﴿وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّي﴾ (محمد ۴۷:۱۵)

افتعال اِصْطَفٰى يَصْطَفِيْ اِصْطِفَآءً (اصل: اِصْتَفَوَ يَصْتَفِوُ اِصْتِفَاوًا): کسی کو اپنے لیے مخصوص کرنا؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں آتا ہے: (۱) چن لینا، منتخب کرنا (۲) کسی کو دوسروں پر ترجیح دینا، پسند کرنا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓى اٰدَمَ وَنُوْحًا﴾ (اٰل عمران ۳:۳۳)

مُصْطَفًي ج مُصْطَفَوْنَ (اسم المفعول، اصل مُصْطَفَوٌ): چنا ہوا (اردو میں «مصطفیٰ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ﴾ (صٓ ۳۸:۴۷)

اردو میں اس مادے سے: صاف۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ