(ض) صَبَرَ يَصْبِرُ صَبْرًا: مشکل اور ناموافق حالات میں عقل کے تقاضوں پر قائم رہنا، ثابت قدم رہنا، برداشت کرنا۔
اِصْبِرْ (فعل امر): تو ثابت قدم رہ، تو برداشت کر؛ صَبْرٌ (اسم ذات بھی): ثابت قدمی (اردو میں «صبر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ﴾ (النحل ۱۶:۱۲۷)
صَابِرٌ (اسم الفاعل): ثابت قدم رہنے والا، برداشت کرنے والا (اردو میں «صابر، صابرین» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۱۵۳)
صَبَّارٌ (فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ): بہت زیادہ ثابت قدم رہنے والا، بہت زیادہ جھیلنے اور برداشت کرنے والا۔ ﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴾ (ابراھیم ۱۴:۵)
مفاعلہ صَابَرَ يُصَابِرُ مُصَابَرَةً: کسی کے مقابلے میں ثابت قدمی میں غالب آنے کی کوشش کرنا؛ صَابِرُوْا (فعل امر): ثابت قدمی میں غالب آؤ، غالب رہو۔ ﴿اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا﴾ (اٰل عمران ۳:۲۰۰)
افتعال اِصْطَبَرَ يَصْطَبِرُ اِصْطِبَارًا (اصل: اِصْتَبَرَ يَصْتَبِرُ اِصْتِبَارًا): اہتمام سے ڈٹے رہنا؛ اِصْطَبِرْ (فعل امر): اہتمام سے ڈٹے رہو۔ ﴿وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِۦ﴾ (مریم ۱۹:۶۵)