(ن) شَرَّ يَشُرُّ شَرًّا: فسادی ہونا، نقصان دہ ہونا، برا ہونا۔
شَرٌّ ج اَشْرَارٌ (اسم ذات بھی): برائی (اردو میں «شر، اشرار» اسی معنی میں)۔ ﴿وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُۥ﴾ (الزلزال ۹۹:۸)؛ ﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ (الفلق ۱۱۳:۲)
شَرٌّ (اسم التفضیل، اصل اَشَرُّ): سب سے برا۔ ﴿اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ﴾ (البیّنۃ ۹۸:۶)
شَرَرٌ (اسم جنس، واحد شَرَرَةٌ)، نیز شَرَارٌ (واحد شَرَارَةٌ): چنگاری (اردو میں «شرارہ» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ﴾ (المرسلٰت ۷۷:۳۲)
اردو میں اس مادے سے: شرارت (چھیڑ خانی، بدتمیزی؛ عربی میں: بدی، فساد)؛ شریر (نٹ کھٹ، شرارتی؛ عربی میں: بد، فسادی)۔
«چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں» (بانگِ درا)