Rizwan Zubair

مادّہ ش د د

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ش د دsh-d-d

(ن) شَدَّ يَشُدُّ شَدًّا وَشِدَّةً: مضبوط، بھاری یا قوی ہونا/کرنا (اردو میں «شدت» اسی معنی میں)؛ پھر یہ لازم اور متعدی دونوں طرح (کسی صلہ کے بغیر بھی اور بعض صلات کے ساتھ بھی) مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے: (۱) مضبوط یا بھاری ہونا، جیسے شَدَّ الشَّيْءُ (چیز مضبوط ہو گئی) (۲) گرہ کو مضبوط باندھنا، جیسے شَدَّ الْعُقْدَةَ (اس نے گرہ مضبوط باندھی) (۳) کسی کی مدد کرنا یا اسے طاقت دینا، جیسے شَدَّ عَضُدَهُۥ (اس کا بازو مضبوط کیا) اور شَدَّ اَزْرَهُۥ (اس کی کمر یا قوت مضبوط کی)۔ ﴿سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ﴾ (القصص ۲۸:۳۵) (۴) سفر کی تیاری کرنا، جیسے شَدَّ رِحَالَهُۥ؛ اس صورت میں اس کے ساتھ «عَلٰى» کا صلہ آتا ہے۔

اَشُدٌّ (اسم ذات): مضبوطی، سختی؛ «بَلَغَ اَشُدَّهُۥ» یعنی پختگی اور بھرپور قوت کی عمر کو پہنچا۔ ﴿حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهُۥ﴾ (الاحقاف ۴۶:۱۵)

شَدِيْدٌ ج اَشِدَّاءُ وَشِدَادٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): ہمیشہ اور ہر حال میں سخت (اردو میں «شدید» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۶)؛ ﴿اَشِدَّآءُ عَلَي الْكُفَّارِ﴾ (الفتح ۴۸:۲۹)؛ ﴿سَبْعًا شِدَادًا﴾ (النبا ۷۸:۱۲)

تفعّل تَشَدَّدَ يَتَشَدَّدُ تَشَدُّدًا: سختی برتنا، سخت گیر ہونا (اردو میں «تشدد»: مار پیٹ، جبر و زیادتی؛ عربی میں: کسی معاملے میں سختی اختیار کرنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

افتعال اِشْتَدَّ يَشْتَدُّ اِشْتِدَادًا: مضبوط ہونا، سخت ہونا۔ ﴿كَرَمَادِ ۨاشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ﴾ (ابراھیم ۱۴:۱۸)

اردو میں اس مادے سے: تشدید؛ تشدد (مار پیٹ، زبردستی؛ عربی میں: سختی اختیار کرنا)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ