س ی لs-y-l
(ض) سَالَ يَسِيْلُ سَيْلًا: پانی کا بہہ نکلنا۔ ﴿فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا﴾ (الرعد ۱۳:۱۷)
سَيْلٌ (اسم ذات بھی): بہتا پانی، سیلاب (اردو میں «سیل، سیلاب» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ﴾ (سبا ۳۴:۱۶)
افعال اَسَالَ يُسِيْلُ اِسَالَةً: رقیق چیز کو بہانا؛ جمی ہوئی چیز کو پگھلانا۔ ﴿وَاَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ الْقِطْرِ﴾ (سبا ۳۴:۱۲)
«گزر جا بن کے سیلِ تند رو کوہ و بیاباں سے» (بانگِ درا)