(ن) سَامَ يَسُوْمُ سَوْمًا: کسی کا کسی چیز کی طلب میں کہیں جانا؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے: (۱) مویشی کا چراگاہ میں جانا (۲) اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی کو تکلیف دینا (۳) پہچان مقرر کرنا تاکہ جب چاہے جا سکے یا حاصل کر سکے۔ ﴿يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ﴾ (البقرۃ ۲:۴۹)
سِيْمَاءُ (اسم ذات): علامت، نشان۔ ﴿سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ﴾ (الفتح ۴۸:۲۹)
افعال اَسَامَ يُسِيْمُ اِسَامَةً: مویشی کو چراگاہ میں لے جانا، چرانا۔ ﴿فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ﴾ (النحل ۱۶:۱۰)
تفعیل سَوَّمَ يُسَوِّمُ تَسْوِيْمًا: نشان لگانا، نشان زدہ کرنا۔
مُسَوِّمٌ (اسم الفاعل): نشان لگانے والا۔ ﴿بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِيْنَ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۲۵)
مُسَوَّمٌ (اسم المفعول): نشان لگایا ہوا۔ ﴿وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۴)