س ت تs-t-t
— سِتَّةٌ / سِتٌّ: عدد چھ۔ اصل سِدْسٌ تھا (اسی لیے چھٹے حصے کو سُدُسٌ کہتے ہیں اور جمع اَسْدَاسٌ آتی ہے)، دال کو تاء سے بدل کر ادغام کیا گیا: سِدْتٌ ⟵ سِتٌّ؛ یہ صرفی نکتہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ عدد کا مادہ س د س ہے مگر لفظ س ت ت کی صورت میں ڈھل گیا۔ ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ (الاعراف ۷:۵۴)
سِتُّوْنَ: ساٹھ۔ ﴿فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا﴾ (المجادلۃ ۵۸:۴)
قرآن میں یہ مادہ آٹھ بار آیا ہے۔