Rizwan Zubair

مادّہ س ت ت

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 2 · English

س ت تs-t-t

— سِتَّةٌ / سِتٌّ: عدد چھ۔ اصل سِدْسٌ تھا (اسی لیے چھٹے حصے کو سُدُسٌ کہتے ہیں اور جمع اَسْدَاسٌ آتی ہے)، دال کو تاء سے بدل کر ادغام کیا گیا: سِدْتٌ ⟵ سِتٌّ؛ یہ صرفی نکتہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ عدد کا مادہ س د س ہے مگر لفظ س ت ت کی صورت میں ڈھل گیا۔ ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ (الاعراف ۷:۵۴)

سِتُّوْنَ: ساٹھ۔ ﴿فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا﴾ (المجادلۃ ۵۸:۴)

قرآن میں یہ مادہ آٹھ بار آیا ہے۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ