س م مs-m-m
(ن) سَمَّ يَسُمُّ سُمُوْمًا: جھلسنا۔
سَمُوْمٌ (اسم ذات): جھلس دینے والی گرم ہوا، لُو (اردو میں «سموم» اسی معنی میں)۔ ﴿فِيْ سَمُوْمٍ وَّحَمِيْمٍ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۴۲)
سَمٌّ (اسم ذات): تنگ سوراخ، جیسے سوئی کا ناکا (اردو میں «سم»: زہر؛ عربی میں: سوئی کا ناکا، باریک سوراخ)۔ ﴿حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ (الاعراف ۷:۴۰)
«تو ڈھونڈ رہا ہے سمِ افرنگ کا تریاق؟» (ضربِ کلیم)