(س) سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً: سلامتی میں ہونا، عیب یا نقص سے پاک ہونا (اردو میں «سلامت، سلامتی» اسی معنی میں)۔
سَالِمٌ (فاعل کے وزن پر صفت): صحیح و سالم، یعنی تندرست (اردو میں «سالم» اسی معنی میں)۔ ﴿وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَي السُّجُوْدِ وَهُمْ سٰلِمُوْنَ﴾ (القلم ۶۸:۴۳)
سَلِيْمٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): بے عیب، سالم (اردو میں «سلیم» اسی معنی میں)۔ ﴿اِلَّا مَنْ اَتَي اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ﴾ (الشعراء ۲۶:۸۹)
سَلَمٌ (صفت): مکمل، پورا پورا۔ ﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ﴾ (الزمر ۳۹:۲۹)
سَلْمٌ (اسم ذات): صلح۔ ﴿وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ (الانفال ۸:۶۱)
سِلْمٌ (اسم ذات): سلامتی، اسلام۔ ﴿ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً﴾ (البقرۃ ۲:۲۰۸)
سُلَّمٌ (اسم ذات): حفاظت کے لیے بلند جگہ پر چڑھنے کا ذریعہ، سیڑھی۔ ﴿اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ﴾ (الانعام ۶:۳۵)
سَلَامٌ (اسم ذات): سلامتی، سلامتی کی دعا (اردو میں «سلام» اسی معنی میں)۔ ﴿سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾ (القدر ۹۷:۵)
افعال اَسْلَمَ يُسْلِمُ اِسْلَامًا: کسی کی فرمانبرداری قبول کرنا، تابعداری کرنا (اس طرح انسان عافیت میں آ جاتا ہے)؛ اصطلاحاً اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنا، یعنی اسلام لانا۔
اِسْلَامٌ (باب افعال کا مصدر): اصطلاحاً دينِ اسلام، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کا ضابطۂ حیات (اردو میں «اسلام» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۹)
تفعیل سَلَّمَ يُسَلِّمُ تَسْلِيْمًا: (۱) آفت سے بچانا (اردو میں «تسلیم»: مان لینا، قبول کرنا؛ عربی میں: سپرد کرنا، سلامتی کی دعا دینا)؛ کسی کو کسی کے سپرد کرنا (۲) صحیح و سالم یعنی پورا رکھنا (۳) سلامتی کی دعا کرنا۔ ﴿وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾ (النساء ۴:۶۵)
مُسَلَّمَةٌ (اسم المفعول، بطور صفت): بچایا ہوا، سپرد کیا ہوا (اردو میں «مسلمہ»: مانا ہوا، متفقہ؛ عربی میں: سپرد کیا ہوا، بچایا ہوا)۔ ﴿مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيْهَا﴾ (البقرۃ ۲:۷۱)
اردو میں اس مادے سے: مسلم، مسلمان۔
«پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم» (بانگِ درا)