(ن) رَقَبَ يَرْقُبُ رُقُوْبًا: نگہبانی کرنا، انتظار کرنا، کسی بات کا لحاظ کرنا۔ ﴿لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ (التوبۃ ۹:۱۰)
رَقِيْبٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت مشبہ): نگہبانی کرنے والا، نگہبان (اردو میں «رقیب»: حریف، محبت میں مقابل؛ عربی میں: نگہبان، نگرانی کرنے والا)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا﴾ (النساء ۴:۱)
رَقَبَةٌ ج رِقَابٌ (اسم ذات): گردن (جس کو گھما کر نگرانی کی جاتی ہے) (اردو میں «رقبہ»: زمین کا پھیلاؤ، علاقہ؛ عربی میں: گردن)؛ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ کسی غلام کو آزاد کرانے کے لیے عربی محاورہ ہے۔ ﴿فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ (البلد ۹۰:۱۳)؛ ﴿وَفِي الرِّقَابِ﴾ (التوبۃ ۹:۶۰)
مفاعلہ رَاقَبَ يُرَاقِبُ مُرَاقَبَةً: نگرانی کرنا، کڑی نظر رکھنا (اردو میں «مراقبہ»: دھیان اور غور و فکر میں ڈوب کر بیٹھنا؛ عربی میں: نگرانی کرنا، کڑی نظر رکھنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
تفعل تَرَقَّبَ يَتَرَقَّبُ تَرَقُّبًا: کسی چیز سے بچنے کے لیے خود اپنی نگہبانی کرنا، چوکنا ہونا۔ ﴿فَاَصْبَحَ فِي الْمَدِيْنَةِ خَآئِفًا يَّتَرَقَّبُ﴾ (القصص ۲۸:۱۸)
افتعال اِرْتَقَبَ يَرْتَقِبُ اِرْتِقَابًا: اہتمام سے انتظار کرنا؛ اِرْتَقِبْ (فعل امر): تو انتظار کر؛ مُرْتَقِبٌ (اسم الفاعل): انتظار کرنے والا۔ ﴿فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ﴾ (الدخان ۴۴:۵۹)
اردو میں اس مادے سے: مراقبہ (دھیان، گیان، روحانی تفکر؛ عربی میں: نگرانی، دیکھ بھال)۔
«قدرت ہے مراقبے میں گویا» (بانگِ درا)