(ن) قَالَ يَقُوْلُ قَوْلًا (اصلی: قَوَلَ يَقْوُلُ): کہنا، بولنا۔ قِيْلَ (ماضی مجہول): کہا گیا؛ يُقَالُ (مضارع مجہول، اصلاً يُقْوَلُ): کہا جاتا ہے؛ قُلْ (فعل امر): تو کہہ۔ ﴿وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ﴾ (البقرۃ ۲:۳۰)؛ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ (الاخلاص ۱۱۲:۱)
قَوْلٌ ج اَقْوَالٌ، جمع الجمع اَقَاوِيْلُ (اسمِ ذات): بات (اردو میں «قول، اقوال» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا﴾ (المزمل ۷۳:۵)
قِيْلٌ (اسمِ ذات): بات، قول۔ ﴿وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا﴾ (النساء ۴:۱۲۲)
قَائِلٌ (اسم الفاعل): کہنے والا (اردو میں «قائل»: ماننے والا، مطمئن؛ عربی میں: کہنے والا)۔ ﴿قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ﴾ (یوسف ۱۲:۱۰)
(تفعّل) تَقَوَّلَ يَتَقَوَّلُ تَقَوُّلًا: بات گھڑنا، کسی کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو اس نے نہ کہی ہو۔ ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ﴾ (الحاقۃ ۶۹:۴۴)
اردو میں اس مادے سے: مقولہ؛ قوال، قوالی (صوفیانہ کلام گانے والا؛ عربی میں: بہت بولنے والا)۔