(ف) قَطَعَ يَقْطَعُ قَطْعًا: کاٹنا (اردو میں «قطع، قطعی» اسی معنی میں)؛ (تعلق) توڑنا؛ (راستہ) طے کرنا۔ ﴿وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهِۦٓ اَنْ يُّوْصَلَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۷)؛ ﴿فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا﴾ (المائدۃ ۵:۳۸)
قِطْعٌ (اسمِ ذات): (رات کا) ایک حصہ؛ قِطْعَةٌ ج قِطَعٌ: ٹکڑا، قطعہ (اردو میں «قطعہ» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ﴾ (ھود ۱۱:۸۱)؛ ﴿وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ﴾ (الرعد ۱۳:۴)
(تفعیل) قَطَّعَ يُقَطِّعُ تَقْطِيْعًا: ٹکڑے ٹکڑے کرنا، کاٹ ڈالنا (اردو میں «تقطیع»: شعر کی تقطیع، کتاب کا سائز؛ عربی میں: ٹکڑے ٹکڑے کرنا)؛ الگ الگ کرنا۔ ﴿وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ﴾ (یوسف ۱۲:۳۱)
(تفعّل) تَقَطَّعَ يَتَقَطَّعُ تَقَطُّعًا: ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا (لازم)، اور کبھی متعدی بھی۔ ﴿لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ﴾ (الانعام ۶:۹۴)
(انفعال) اِنْقَطَعَ يَنْقَطِعُ اِنْقِطَاعًا: کٹ جانا، ٹوٹ جانا، سلسلہ رک جانا (اردو میں «انقطاع، منقطع» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: منقطع، انقطاع۔