(ض) قَصَدَ يَقْصِدُ قَصْدًا: (۱) کسی چیز کا ارادہ کر کے سیدھا اس کی طرف جانا (۲) اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا (اردو میں «قصد» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ﴾ (لقمٰن ۳۱:۱۹)
قَصْدٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): سیدھا راستہ؛ کسی چیز کا درمیان۔ ﴿وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ﴾ (النحل ۱۶:۹)
قَاصِدٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت): درمیانہ، معتدل، آسان (اردو میں «قاصد»: پیغام لانے والا، ایلچی؛ عربی میں: کسی سمت جانے والا؛ معتدل)۔ ﴿وَسَفَرًا قَاصِدًا﴾ (التوبۃ ۹:۴۲)
(افتعال) اِقْتَصَدَ يَقْتَصِدُ اِقْتِصَادًا: اہتمام سے میانہ روی اختیار کرنا (اردو میں «اقتصاد، اقتصادی»: معیشت، معاشیات؛ عربی میں: میانہ روی، اعتدال)۔ مُقْتَصِدٌ (اسم الفاعل): میانہ رو۔ ﴿مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ﴾ (المائدۃ ۵:۶۶)
اردو میں اس مادے سے: مقصد، مقصود۔
«قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟» (بانگِ درا)