(س) قَرِنَ يَقْرَنُ قَرَنًا: دو یا زیادہ چیزوں کا باہم جمع ہونا، اکٹھا ہونا، جڑنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
قَرِيْنٌ ج قُرَنَآءُ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): ہر وقت ساتھ جڑا رہنے والا، ساتھی، ہم نشین (اردو میں «قرین» اسی معنی میں)۔ ﴿وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَهُۥ قَرِيْنًا فَسَآءَ قَرِيْنًا﴾ (النساء ۴:۳۸)
قَرْنٌ ج قُرُوْنٌ: زمانہ، ایک عہد کا عرصہ (اردو میں «قرن» اسی معنی میں)؛ پھر ایک زمانے میں ساتھ رہنے والے لوگوں، یعنی امت اور جماعت کے لیے بھی آتا ہے۔ ﴿وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ﴾ (مریم ۱۹:۷۴)
ذُوالْقَرْنَيْنِ: (قَرْنٌ کا تثنیہ) دو زمانوں یا دو قوموں والا؛ قرآن میں ایک بادشاہ کے نام (اسمِ علم) کے طور پر آیا ہے۔ ﴿وَيَسْــَٔلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ﴾ (الکھف ۱۸:۸۳)
(افعال) اَقْرَنَ يُقْرِنُ اِقْرَانًا: دو یا زیادہ چیزوں کو اکٹھا کرنا، باندھنا؛ نیز کسی چیز پر قابو پانا۔ مُقْرِنٌ ج مُقْرِنِيْنَ (اسم الفاعل): قابو پانے والا۔ ﴿وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِنِيْنَ﴾ (الزخرف ۴۳:۱۳)
(تفعیل) قَرَّنَ يُقَرِّنُ تَقْرِيْنًا: خوب کس کر باندھنا۔ مُقَرَّنٌ ج مُقَرَّنِيْنَ (اسم المفعول): کس کر باندھا ہوا۔ ﴿مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ﴾ (ابراھیم ۱۴:۴۹)
(افتعال) اِقْتَرَنَ يَقْتَرِنُ اِقْتِرَانًا: اہتمام سے متصل ہونا، ساتھ جڑنا۔ مُقْتَرِنٌ ج مُقْتَرِنِيْنَ (اسم الفاعل): ساتھ جڑا ہوا۔ ﴿اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ﴾ (الزخرف ۴۳:۵۳)
اردو میں اس مادے سے: قرینہ (ڈھنگ، طور طریقہ؛ عربی میں: ساتھ جڑی چیز، علامت)۔
«ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں» (بانگِ درا)