(ض) قَبَضَ يَقْبِضُ قَبْضًا: (۱) مٹھی یا پنجے میں پکڑنا (۲) سکیڑنا، روک لینا — بَسْط کی ضد (اردو میں «قبض»: پاخانے کا رک جانا؛ عربی میں: پکڑنا، سکیڑنا)۔ ﴿وَاللّٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ﴾ (البقرۃ ۲:۲۴۵)؛ ﴿وَيَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ﴾ (التوبۃ ۹:۶۷)
قَبْضَةٌ: مٹھی بھر (اردو میں «قبضہ»: دخل، تصرف، ملکیت؛ عربی میں: مٹھی، گرفت)؛ مٹھی میں ہونا، یعنی پورے قبضہ و اختیار میں۔ ﴿فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۹۶)؛ ﴿وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ﴾ (الزمر ۳۹:۶۷)
مَقْبُوْضٌ (اسم المفعول): قبضے میں دیا ہوا (اردو میں «مقبوضہ» اسی معنی میں)۔ ﴿فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ﴾ (البقرۃ ۲:۲۸۳)
اردو میں اس مادے سے: قابض۔
«قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش» (ضربِ کلیم)