(س) قَبِلَ يَقْبَلُ قَبُوْلًا: کسی چیز کو لے لینا، قبول کرنا (اردو میں «قبول» اسی معنی میں)۔ ﴿وَهُوَ الَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ﴾ (الشورٰی ۴۲:۲۵)
قَبْلُ (ظرف): پہلے (اردو میں «قبل» اسی معنی میں)۔ ﴿مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۴)؛ قِبَلٌ (ظرف): سامنے، طرف۔ ﴿فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِيْنَ﴾ (المعارج ۷۰:۳۶)
قُبُلٌ: کسی چیز کا سامنے کا حصہ۔ ﴿اِنْ كَانَ قَمِيْصُهُۥ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ﴾ (یوسف ۱۲:۲۶)
قِبْلَةٌ: ہر وہ چیز جس کی طرف رخ کیا جائے، قبلہ (اردو میں «قبلہ» اسی معنی میں)۔ ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا﴾ (البقرۃ ۲:۱۴۴)
قَبِيْلٌ ج قَبَآئِلُ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): ایک نسل کے افراد کی جماعت، قبیلہ (کیونکہ نسبی اعتبار سے ان میں قربت ہوتی ہے) (اردو میں «قبیلہ، قبائل» اسی معنی میں)۔ ﴿وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا﴾ (الحجرات ۴۹:۱۳)
(مفاعلہ) قَابَلَ يُقَابِلُ مُقَابَلَةً وَقِبَالًا: آمنے سامنے ہونا، سامنا کرنا؛ دو چیزوں کا موازنہ کرنا (اردو میں «مقابلہ، مقابل» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افعال) اَقْبَلَ يُقْبِلُ اِقْبَالًا: سامنے آنا، کسی کی طرف متوجہ ہونا (اردو میں «اقبال»: خوش بختی، عروج؛ عربی میں: سامنے آنا، متوجہ ہونا)۔ ﴿فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ﴾ (الصافات ۳۷:۵۰)
(تفعّل) تَقَبَّلَ يَتَقَبَّلُ تَقَبُّلًا: اہتمام سے قبول کرنا۔ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا﴾ (البقرۃ ۲:۱۲۷)
(تفاعل) تَقَابَلَ يَتَقَابَلُ تَقَابُلًا: آمنے سامنے ہونا؛ مُتَقٰبِلٌ (اسم الفاعل)۔ ﴿عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۴۷)
(استفعال) اِسْتَقْبَلَ يَسْتَقْبِلُ اِسْتِقْبَالًا: کسی کے سامنے آنا، رخ کرنا (اردو میں «استقبال» اسی معنی میں)؛ مُسْتَقْبِلٌ (اسم الفاعل): سامنے آنے والا (اردو میں «مستقبل»: آنے والا زمانہ؛ عربی میں: سامنے آنے والا، رخ کرنے والا)۔ ﴿فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ﴾ (الاحقاف ۴۶:۲۴)
اردو میں اس مادے سے: مقابلہ (مسابقت، موازنہ؛ عربی میں: آمنے سامنے ہونا، ملاقات)۔
«میرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے» (بانگِ درا)
«خوشا اقبالِ رنجوری عیادت کو تم آئے ہو» (دیوانِ غالب)