Rizwan Zubair

مادّہ ن و ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ن و رn-w-r

(ن) نَارَ يَنُوْرُ نُوْرًا وَنَوْرًا (اصلی: نَوَرَ يَنْوُرُ): روشن ہونا، چمکنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

نُوْرٌ ج اَنْوَارٌ (اسمِ ذات): روشنی، وہ کیفیت جس کے سبب اشیاء دکھائی دیں (اردو میں «نور، نورانی، انوار» اسی معنی میں)؛ اسی لیے قرآن میں ہدایت اور وحی کو نور کہا گیا۔ ﴿اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ (النور ۲۴:۳۵)؛ ﴿وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا﴾ (الزمر ۳۹:۶۹)

نَارٌ ج نِيْرَانٌ (اسمِ ذات): آگ (اسی مادے سے، کیونکہ وہ روشنی کا سبب ہے) (اردو میں «نار» اسی معنی میں)۔ ﴿نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ﴾ (الھمزۃ ۱۰۴:۶)؛ ﴿قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ﴾ (الانبیاء ۲۱:۶۹)

نَائِرَةٌ: فتنے کی آگ؛ مَنَارٌ وَمَنَارَةٌ (اسم الظرف/الآلہ): روشنی کی جگہ، مینار (اردو میں «منارہ، مینار» اسی معنی میں)۔ (یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

(افعال) اَنَارَ يُنِيْرُ اِنَارَةً: روشن کرنا، روشن ہونا؛ مُنِيْرٌ (اسم الفاعل): روشن کرنے والا، روشن (اردو میں «منیر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا﴾ (الفرقان ۲۵:۶۱)؛ ﴿وَدَاعِيًا اِلَي اللّٰهِ بِاِذْنِهِۦ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾ (الاحزاب ۳۳:۴۶)

(تفعیل) نَوَّرَ يُنَوِّرُ تَنْوِيْرًا: خوب روشن کرنا (اردو میں «تنویر، منور» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

«عشق سے نورِ حیات، عشق سے نارِ حیات» (بالِ جبریل)

«جستجو میں لذتِ تنویر رکھتی ہے مجھے» (بانگِ درا)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ