(ن) نَصَرَ يَنْصُرُ نَصْرًا: کسی کی مدد کرنا؛ اُنْصُرْ (فعلِ امر): تو مدد کر۔ ﴿اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ﴾ (محمد ۴۷:۷)؛ ﴿رَبِّ انْصُرْنِيْ عَلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ﴾ (العنکبوت ۲۹:۳۰)
نَصْرٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): مدد (اردو میں «نصر، نصرت» اسی معنی میں)۔ ﴿اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ (النصر ۱۱۰:۱)
نَاصِرٌ ج نٰصِرُوْنَ وَاَنْصَارٌ (اسم الفاعل): مدد کرنے والا، مددگار (اردو میں «ناصر» اسی معنی میں) (اردو میں «انصار»: مدینہ کے صحابہ کا لقب؛ عربی میں: مددگار، حامی (عام))۔ ﴿فَمَا لَهُۥ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾ (الطارق ۸۶:۱۰)؛ ﴿مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَي اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ﴾ (الصف ۶۱:۱۴)
نَصِيْرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر بمعنی اسم الفاعل): ہمیشہ اور ہر حال میں مدد کرنے والا (اردو میں «نصیر» اسی معنی میں)۔ ﴿نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ﴾ (الانفال ۸:۴۰)
مَنْصُوْرٌ ج مَنْصُوْرُوْنَ (اسم المفعول): جس کی مدد کی گئی (اردو میں «منصور» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ﴾ (الصافات ۳۷:۱۷۲)
نَصْرَانِيٌّ ج نَصٰرٰى (اسمِ نسبت): مدد سے تعلق رکھنے والا (اردو میں «نصرانی، نصاریٰ» اسی معنی میں)؛ اصطلاحًا عیسائیوں کے لیے آتا ہے (کہا گیا ہے کہ حواریوں کے قول «نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ» کی مناسبت سے، اور یہ بھی کہ بستی «ناصرہ» کی نسبت سے)۔ ﴿وَقَالَتِ النَّصٰرٰى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ﴾ (التوبۃ ۹:۳۰)؛ ﴿مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا﴾ (اٰل عمران ۳:۶۷)
(تفاعل) تَنَاصَرَ يَتَنَاصَرُ تَنَاصُرًا: ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ﴾ (الصافات ۳۷:۲۵)
(افتعال) اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ اِنْتِصَارًا: خود اپنی مدد کرنا، بدلہ لینا؛ اِنْتَصِرْ (فعلِ امر): تو بدلہ لے؛ مُنْتَصِرٌ (اسم الفاعل): بدلہ لینے والا۔ ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِۦ﴾ (الشورٰی ۴۲:۴۱)؛ ﴿اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ﴾ (القمر ۵۴:۱۰)؛ ﴿نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ﴾ (القمر ۵۴:۴۴)
(استفعال) اِسْتَنْصَرَ يَسْتَنْصِرُ اِسْتِنْصَارًا: مدد مانگنا۔ ﴿وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾ (الانفال ۸:۷۲)
«اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی» (بانگِ درا)
«نصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملت و ملک» (دیوانِ غالب)