(ف) نَصَحَ يَنْصَحُ نُصْحًا وَنَصِيْحَةً: کوئی ایسی بات یا کام کرنا جس میں دوسرے کی بھلائی ہو اور اپنی کوئی غرض نہ ہو (اردو میں «نصیحت» اسی معنی میں)؛ اسی سے (۱) بے لوث خیر خواہی کرنا (۲) خالص ہونا، صاف ہونا۔ ﴿اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهِۦ﴾ (التوبۃ ۹:۹۱)؛ ﴿وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ﴾ (الاعراف ۷:۷۹)
نُصْحٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): بے لوث خیر خواہی۔ ﴿وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ﴾ (ھود ۱۱:۳۴)
نَاصِحٌ ج نٰصِحُوْنَ (اسم الفاعل): خیر خواہی کرنے والا (اردو میں «ناصح» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ﴾ (الاعراف ۷:۶۸)؛ ﴿وَاِنَّا لَهُۥ لَنٰصِحُوْنَ﴾ (یوسف ۱۲:۱۱)
نَصُوْحٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ): انتہائی خالص۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿تُوْبُوْٓا اِلَي اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا﴾ (التحریم ۶۶:۸)
«یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح» (دیوانِ غالب)