(ن) نَسَبَ يَنْسُبُ نَسْبًا: نسب بیان کرنا، کسی کی طرف منسوب کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَسَبٌ ج اَنْسَابٌ (اسمِ ذات): خاندانی رشتہ، وہ قرابت جو ولادت سے ہو (اردو میں «نسب» اسی معنی میں)؛ اسی لیے قرآن میں یہ «صِهْر» (سسرالی رشتہ) کے مقابل آیا ہے۔ قرآن میں تین بار: ﴿فَجَعَلَهُۥ نَسَبًا وَّصِهْرًا﴾ (الفرقان ۲۵:۵۴)؛ ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ﴾ (المؤمنون ۲۳:۱۰۱)؛ ﴿وَجَعَلُوْا بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا﴾ (الصافات ۳۷:۱۵۸)
(مفاعلہ) نَاسَبَ يُنَاسِبُ مُنَاسَبَةً: کسی چیز سے میل کھانا، اس کے موافق اور موزوں ہونا (اردو میں «مناسب، مناسبت» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفاعل) تَنَاسَبَ يَتَنَاسَبُ تَنَاسُبًا: (چیزوں کا) باہم میل کھانا، ایک دوسرے سے ٹھیک نسبت رکھنا (اردو میں «تناسب، متناسب» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: منسوب، نسبت، مناسب، تناسب۔