ن ق صn-q-ṣ
(ن) نَقَصَ يَنْقُصُ نَقْصًا وَنُقْصَانًا: کم ہونا (اردو میں «نقصان»: خسارہ، ضرر، ہانی؛ عربی میں: کمی، گھٹ جانا)؛ کمی کرنا، گھٹانا۔ ﴿وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ﴾ (ھود ۱۱:۸۴)؛ ﴿اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا﴾ (الرعد ۱۳:۴۱)
نَقْصٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): کمی (اردو میں «نقص»: عیب، خامی؛ عربی میں: کمی، گھٹاؤ)۔ ﴿وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۵۵)
مَنْقُوْصٌ (اسم المفعول): گھٹایا ہوا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ﴾ (ھود ۱۱:۱۰۹)
اردو میں اس مادے سے: ناقص۔