(ن) نَقَضَ يَنْقُضُ نَقْضًا: کسی بنی ہوئی چیز کو توڑنا، رسی کا بل کھول دینا (اردو میں «نقض» اسی معنی میں)؛ پھر عہد توڑنے کے لیے۔ ﴿وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا﴾ (النحل ۱۶:۹۱)؛ ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا﴾ (النحل ۱۶:۹۲)
(افعال) اَنْقَضَ يُنْقِضُ اِنْقَاضًا: بوجھل کرنا، (بوجھ سے) کمر توڑ دینا، یعنی ٹوٹنے کے قریب کر دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ﴾ (الانشراح ۹۴:۳)
(تفاعل) تَنَاقَضَ يَتَنَاقَضُ تَنَاقُضًا: (دو باتوں کا) ایک دوسرے کو کاٹنا، باہم متضاد ہونا (اردو میں «تناقض، متناقض» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تناقض، متناقض۔