ن ق رn-q-r
(ن) نَقَرَ يَنْقُرُ نَقْرًا: (۱) ٹھونگیں مار کر کسی چیز میں سوراخ یا گڑھا کرنا (۲) پھونک مار کر بانسری یا بگل بجانا۔ ﴿فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ﴾ (المدثر ۷۴:۸)
نَاقُوْرٌ (فَاعُوْلٌ کے وزن پر اسمِ آلہ): بگل، صور۔ قرآن میں صرف ایک بار (مذکورہ آیت میں)۔
نَقِيْرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): کھجور کی گٹھلی کی پشت کا ننھا سا گڑھا؛ کسی انتہائی حقیر چیز کے لیے عربی محاورہ، جس کا اردو متبادل «تل بھر» ہے۔ ﴿وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا﴾ (النساء ۴:۱۲۴)؛ ﴿فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا﴾ (النساء ۴:۵۳)
اردو میں اس مادے سے: نقارہ۔