(ن، ض) نَكَلَ يَنْكُلُ نُكُوْلًا: (ڈر کر کسی کام سے) پیچھے ہٹنا، رک جانا؛ اسی سے «نَكَال»: ایسی سزا جو دوسروں کو (اس جرم سے) روک دے۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَكَالٌ (اسمِ ذات): عبرت ناک سزا۔ ﴿فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا﴾ (البقرۃ ۲:۶۶)؛ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ﴾ (المائدۃ ۵:۳۸)
نِكْلٌ ج اَنْكَالٌ (اسمِ ذات): بھاری بیڑی (جو قیدی کو بھاگنے سے روکے)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا﴾ (المزمل ۷۳:۱۲)
(تفعیل) نَكَّلَ يُنَكِّلُ تَنْكِيْلًا: تسلسل سے عبرت ناک سزا دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا﴾ (النساء ۴:۸۴)