ن ک بn-k-b
(ن) نَكَبَ يَنْكُبُ نُكُوْبًا: راستے سے ہٹ جانا، ایک طرف کو مڑ جانا، کترانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَاكِبٌ ج نٰكِبُوْنَ (اسم الفاعل): کترانے والا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ﴾ (المؤمنون ۲۳:۷۴)
مَنْكِبٌ ج مَنَاكِبُ (اسم الظرف): کندھا؛ کسی چیز کا پہلو یا کنارہ، اسی لیے زمین کے اطراف کے لیے یہ لفظ آیا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهِۦ﴾ (الملک ۶۷:۱۵)
اردو میں اس مادے سے: نکبت۔