(ن) نَفَذَ يَنْفُذُ نُفُوْذًا وَنَفَاذًا: پار ہو جانا، آر پار نکل جانا، سرحد سے گزر جانا (اردو میں «نفوذ»: اثر و رسوخ، دخل؛ عربی میں: آر پار گزر جانا)؛ اسی سے «نفوذ» کی اصطلاح ہے۔ قرآن میں صرف ایک آیت میں، جس میں یہ مادہ تین بار آیا ہے: ﴿يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۳۳)
(تفعیل) نَفَّذَ يُنَفِّذُ تَنْفِيْذًا: (حکم وغیرہ کو) نافذ کرنا، عمل میں لانا (اردو میں «تنفیذ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: نافذ (لاگو، رائج؛ عربی میں: پار گزرنے والا)؛ تنفیذ۔