(ض، ن) نَذَرَ يَنْذِرُ وَيَنْذُرُ نَذْرًا: کسی غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کر لینا، منت ماننا۔ ﴿اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا﴾ (مریم ۱۹:۲۶)
نَذْرٌ ج نُذُوْرٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): منت (اردو میں «نذر»: نذرانہ، پیش کرنا؛ عربی میں: منت، اپنے اوپر واجب کرنا)۔ ﴿يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ﴾ (الدھر ۷۶:۷)؛ ﴿وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ﴾ (الحج ۲۲:۲۹)
(س) نَذِرَ يَنْذَرُ نَذَرًا: کسی متوقع خطرے سے خبردار ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَذِيْرٌ ج نُذُرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر، مگر معنی خبردار ہونے والا کے بجائے خبردار کرنے والا): ڈرانے والا (اردو میں «نذیر» اسی معنی میں)؛ نُذُرٌ بمعنی تنبیہات بھی آتا ہے۔ ﴿اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۱۹)؛ ﴿كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴾ (القمر ۵۴:۲۳)
(افعال) اَنْذَرَ يُنْذِرُ اِنْذَارًا: کسی متوقع خطرے سے خبردار کرنا، ڈرانا؛ مُنْذِرٌ (اسم الفاعل): ڈرانے والا۔ ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ (الشعراء ۲۶:۲۱۴)؛ ﴿اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ﴾ (الرعد ۱۳:۷)