(س) نَدِيَ يَنْدٰى نَدًي (اصلی: نَدِيَ يَنْدَيُ): گیلا ہونا، تر ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(مفاعلہ) نَادٰى يُنَادِيْ نِدَآءً وَمُنَادَاةً: بلند آواز سے پکارنا (بلند آواز تر حلق سے نکلتی ہے) (اردو میں «ندا» اسی معنی میں)۔ ﴿اِذْ نَادٰى رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيًّا﴾ (مریم ۱۹:۳)
مُنَادٍ (اسم الفاعل): پکارنے والا (اردو میں «منادی»: اعلانِ عام، ڈھنڈورا؛ عربی میں: پکارنے والا)۔ ﴿رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۹۳)
(تفاعل) تَنَادٰى يَتَنَادٰى تَنَادِيًا: ایک دوسرے کو پکارنا۔ ﴿فَتَنَادَوْا مُصْبِحِيْنَ﴾ (القلم ۶۸:۲۱)؛ «يَوْمُ التَّنَادِ» = قیامت، جب لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ ﴿اِنِّيْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ﴾ (المؤمن ۴۰:۳۲)
«ندا مسجد کی دیواروں سے آئی» (ارمغانِ حجاز)