(ض) مَرٰى يَمْرِيْ مَرْيًا (اصلی: مَرَيَ يَمْرِيُ): (اونٹنی کے تھن کو) سہلا کر دودھ نکالنا؛ پھر شک کی بنا پر کسی بات کو کریدنا اور جھگڑنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
مِرْيَةٌ (اسمِ ذات): شک، شبہ۔ ﴿فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ﴾ (ھود ۱۱:۱۷)
(مفاعلہ) مَارٰى يُمَارِيْ مِرَاءً وَمُمَارَاةً: شک کی بنا پر ایک دوسرے سے جھگڑنا؛ لَا تُمَارِ (فعل نہی): تو مت جھگڑ۔ ﴿اَفَتُمٰرُوْنَهُۥ عَلٰى مَا يَرٰى﴾ (النجم ۵۳:۱۲)؛ ﴿فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا﴾ (الکھف ۱۸:۲۲)
(تفاعل) تَمَارٰى يَتَمَارٰى تَمَارِيًا: باہم شک اور جھگڑا کرنا۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى﴾ (النجم ۵۳:۵۵)
(افتعال) اِمْتَرٰى يَمْتَرِيْ اِمْتِرَاءً: شک میں پڑنا؛ مُمْتَرٍ ج مُمْتَرُوْنَ (اسم الفاعل): شک کرنے والا۔ ﴿الَّذِيْ فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ﴾ (مریم ۱۹:۳۴)؛ ﴿فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۱۴۷)