(س) مَرِضَ يَمْرَضُ مَرَضًا: بیمار ہونا؛ اصل مفہوم اعتدال سے ہٹ جانا اور کمزور پڑ جانا ہے، اسی لیے یہ لفظ بدن کے ساتھ دل، نیت اور معاملات کے بگاڑ کے لیے بھی آتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ﴾ (الشعراء ۲۶:۸۰)
مَرَضٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): بیماری (اردو میں «مرض، امراض» اسی معنی میں)؛ قرآن میں اکثر دل کی بیماری (نفاق و شک) کے لیے۔ ﴿فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۰)
مَرِيْضٌ ج مَرْضٰى (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): بیمار (اردو میں «مریض» اسی معنی میں)؛ اس وزن کی جمع فَعْلٰى پر آتی ہے، جیسے قَتِيْلٌ ← قَتْلٰى، کیونکہ یہ وزن آفت زدگی کے لیے خاص ہے۔ ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۴)؛ ﴿عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى﴾ (المزمل ۷۳:۲۰)