(ن) مَرَّ يَمُرُّ مَرًّا وَمُرُوْرًا (اصلی: مَرَرَ يَمْرُرُ): (۱) رسی کو مضبوط بٹنا (۲) کسی کے پاس سے گزرنا (بٹی ہوئی رسی کی ایک لڑی دوسری کے پاس سے گزرتی ہے) (اردو میں «مرور» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا﴾ (الفرقان ۲۵:۷۲)؛ ﴿حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهِۦ﴾ (الاعراف ۷:۱۸۹)
مَرَّةٌ ج مَرّٰتٌ (اسمِ مرّه): ایک بار، دفعہ۔ ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۹)
(استفعال) اِسْتَمَرَّ يَسْتَمِرُّ اِسْتِمْرَارًا: مسلسل جاری رہنا (اردو میں «استمرار» اسی معنی میں)؛ مُسْتَمِرٌّ (اسم الفاعل): مسلسل چلا آنے والا۔ ﴿وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴾ (القمر ۵۴:۲)؛ ﴿فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ﴾ (القمر ۵۴:۱۹)
«کہ ہے مرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام» (ضربِ کلیم)