(ن) مَدَنَ يَمْدُنُ مُدُوْنًا: کسی جگہ ٹھہر جانا اور بس جانا۔ مَدِيْنَة ج مَدَائِن وَمُدُن: شہر، بستی — اہلِ لغت میں دو قول ہیں: (۱) یہ اسی مادہ سے ہے، یعنی بسنے کی جگہ (اردو میں «مدینہ»: مدینہ منوّرہ، شہرِ نبی؛ عربی میں: شہر، بستی)؛ (۲) یہ م د ن نہیں بلکہ د ی ن سے ہے، وزن مَفْعِلَة، یعنی وہ جگہ جہاں نظم و اطاعت ہو — اسی لیے جمع مَدَائِن اور مُدُن دونوں آتی ہیں۔ قرآن میں ۱۷ بار: ﴿وَجَاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى﴾ (یٰسٓ ۳۶:۲۰) اور ﴿وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِيْنَ﴾ (الشعراء ۲۶:۳۶)۔
(تفعّل) تَمَدَّنَ يَتَمَدَّنُ تَمَدُّنًا: شہری طرزِ زندگی اختیار کرنا، مہذب اور شائستہ ہونا (اردو میں «تمدن، متمدن» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تمدن۔
«وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود» (بانگِ درا)