(ک، ف) مَرُءَ يَمْرُؤُ مَرَاءَةً: (کھانے کا) خوشگوار اور زود ہضم ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
مَرِيْءٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): خوشگوار، رچ پچ جانے والا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَكُلُوْهُ هَنِيْٓـًٔا مَّرِيْٓـًٔا﴾ (النساء ۴:۴)
مَرْءٌ / اِمْرُؤٌ (اسمِ ذات): آدمی، انسان؛ تنکیر میں ہمزۃ الوصل کے ساتھ اِمْرُؤٌ، جس میں را کی حرکت آخری ہمزہ کے تابع رہتی ہے (اِمْرُؤٌ، اِمْرَاً، اِمْرِئٍ)۔ ﴿يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ﴾ (الانفال ۸:۲۴)؛ ﴿اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهُۥ وَلَدٌ﴾ (النساء ۴:۱۷۶)؛ ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ﴾ (عبس ۸۰:۳۷)
اِمْرَاَةٌ (مؤنث): عورت، بیوی۔ ﴿امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا﴾ (یوسف ۱۲:۳۰)
اردو میں اس مادے سے: مروت (لحاظ، رواداری؛ عربی میں: مردانگی، جوانمردی)۔